وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ہم نے پاکستان کو ایسا نہیں بنایا جس سے قائد اور دیگر رہنماؤں کی روحیں مسرور ہوں، ہم نے ان دونوں کے اصل مقاصد کو اپنایا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت کے فیصلوں نے قوم کو مزید مشکلات میں مبتلا کردیا ہے۔

قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو وہ سب کچھ نہیں دے سکے جس کے وہ حقدار ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ یہی وہ قوم ہے جس نے ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت  میں وسائل نہ ہونے کے باوجود ایٹمی پروگرام شروع کیا، یہی وہ قوم ہے جس نے نواز شریف کی قیادت میں ایٹمی پروگرام کو مکمل کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اسی مہینے ارشد ندیم اور نوح بٹ نے کامیابیاں حاصل کرکے قوم کا سر فخر سے بلند کیا، اسی قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی، اب قوم کو تقسیم در تقسیم کیا جا رہا ہے، قوم کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پچھلی حکومت کے فیصلوں نے قوم کو مزید مشکلات میں مبتلا کردیا ہے، ہم نے مختصر وقت میں ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کی کوشش کی اور آج پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ہے، ملک کو معاشی بحران سے بچانے کے لیے دوستوں اور مالیاتی اداروں سے قرض لینا پڑ رہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم 2017 میں پاکستان کو گندم میں خود کفیل چھوڑ کر گئے تھے اور پچھلی حکومت کی وجہ سے ہمیں اب گندم باہر سے منگوانا پڑ رہی ہے، پچھلی حکومت نے کس کے اشارے پر سی پیک کے منصوبوں کو بند کر کے  پاکستان کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا؟

شہباز شریف نے کہا کہ ہماری حکومت نے غیر ضروری امپورٹس پر پابندی لگائی ہے جس کی وجہ سے روپے کی قدر بہتر ہورہی ہے، ہم نے تہیہ کیا ہے پاکستان کو معاشی ترقی کے راستے پر لے کر جائیں گے۔

وزیر اعظم  نے کہا کہ آج محض ایک مبارک باد کافی نہیں، ہم ہر سال دھوم دھام سے یوم آزادی مناتے ہیں، لاکھوں قربانیوں کے بعد پاکستان حاصل کیا گیا، حققت یہ ہے کہ 75 برس سے ان دنوں کو منایا ہے مگر اصل مقاصد کو اپنایا نہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ اربوں ڈالرخرچ کرکے ہم باہر سے تیل و گیس منگواتے ہیں، ہم نے مہنگی بجلی کے بجائے سولر سسٹم لگانے کا فصلہ کیا۔



Leave a Reply

Your email address will not be published.