فائل فوٹو

مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا کابینہ میں شامل ہونا حکومت کے لیے اچھا شگون ہوگا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اگر تین بڑی جماعتیں کابینہ کا حصہ بنیں تو ذمے داریاں تقسیم ہو جائیں گی، تین بڑے صوبوں سے سیاسی جماعتیں ہوں گی تو کابینہ اچھی ہو جائے گی، کابینہ کا سائز بڑا نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وفاق میں تعلیم اور صحت جیسی وزارتیں صوبوں کو منتقل ہونی چاہئیں، دس سے 12 وزارتیں صوبوں کو منتقل کرنے کی بلاول کی تجویز کی حمایت کرتا ہوں، ضلعی حکومتیں مضبوط کرنے سے اسمبلی ممبران کا بوجھ کم ہوگا،  کراچی کی ضلعی حکومت مضبوط کرنے سے متعلق آئینی ترمیم ہونی چاہیے، کراچی بڑا شہر ہے، دنیا میں بڑے شہروں میں مضبوط مقامی حکومتیں ہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ مجھے پارٹی نے پارلیمانی لیڈر نامزد کیا ہے جو وزارت سے بڑا عہدہ ہے، حکومت چلانے سے متعلق اتحادیوں کے بھی اتنے ہی اسٹیک ہیں جتنے ہمارے، اگر حکومت فیل ہوجائے تو اتحادیوں کو بھی اتنا ہی نقصان ہوتا ہے، شہباز شریف نے کل قابل عمل معاشی ایجنڈا دیا ہے، انہوں نے ایک کروڑ نوکریوں، 50 لاکھ گھر، کٹے مرغیوں والا ایجنڈا نہیں دیا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ شہباز شریف نے سائیکل پر آنے کا دعویٰ بھی نہیں کیا، انہوں نے گورنر ہاؤسز کو یونیورسٹیاں بنانے کا دعویٰ نہیں کیا، انہوں نے معاشی ماہرین کی مشاورت سے معاشی ایجنڈا تیار کیا ہے، کابینہ کے نام کب فائنل ہوں گے یہ کہنا قبل ازوقت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے بطور اپوزیشن لیڈر جو معاشی ایجنڈا پیش کیا تھا کل اس کا اعادہ کیا، ٹیکس چوری، بجلی گیس کی چوری روکنے پر کسی ادارے کو اعتراض نہیں، پی ٹی آئی آج جو فلور پر مطالبہ کر رہی ہے  4 سال پہلے ہم یہی مطالبہ کرتے رہے، اُس وقت پی ٹی آئی نہ جواب دیتی تھی نہ ان کا وزیرِ اعظم ایوان میں آتا تھا، ہنسی آتی ہے، وہ لوگ مطالبے کرتے ہیں جنہوں نے پانچ پانچ جماعتیں تبدیل کی ہیں۔

سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ایوب خان کی 1947 میں کرپشن کی انکوائری کی گئی تھی، انکوائری کے بعد ایوب خان کو بارڈر سے مشرقی پاکستان ٹرانسفر کر دیا گیا تھا، عمر ایوب کل تک نواز شریف اور شہباز شریف کے نعرے لگایا کرتا تھا، آج وہ پی ٹی آئی کا لیڈر ہے جبکہ وفادار لیڈر موجود ہیں جو سائیڈ پر ہیں۔

خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف کی ہی قیادت رہے گی اور فیصلے بھی نواز شریف کے ہوں گے، اس چیز کا بھی امکان ہے کہ نواز شریف کو پارٹی صدارت دی جائے۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *