پشاور ہائیکورٹ نے اسلامیہ کالج میں طالبات کو ہراساں کرنے کے خلاف کیس میں رجسٹرار سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

پشاور ہائیکورٹ میں اسلامیہ کالج میں طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات کے خلاف کیس کی سماعت جسٹس روح الامین نے کی۔ وائس چانسلر اسلامیہ کالج ڈاکٹر گل ماجد خان عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے رجسٹرار سے اگلی سماعت پر تفصیلی رپورٹ طلب کی۔

دوران سماعت جسٹس روح الامین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یونیورسٹیز سے جو شکایات آ رہی ہیں کسی صورت برداشت نہیں، ہراساں کرنے والوں کو الٹا لٹکانا چاہیے۔

جسٹس روح الامین نے مزید ریمارکس میں کہا کہ کالجز، یونیورسٹیز میں ایسے درندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہیے۔

جسٹس روح الامین نے استفسار کیا کہ گورنر اور سنڈیکیٹ کے فیصلوں سے ایسا لگتا ہے کہ ایسے لوگوں کو اسپیس دیا جا رہا ہے، ایسے لوگ ہمارے معاشرے کے لیے کالی بھیڑیں ہیں۔

جسٹس روح الامین نے وی سی سے کہا کہ یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ طالبات کی زندگی یونیورسٹی میں محفوظ بنائیں اور رپورٹ دیں کہ اب تک ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات ہوئے؟



Leave a Reply

Your email address will not be published.