تصویر بشکریہ امریکی سفارت خانہ

امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے صوبۂ خیبر پختون خوا کا دورہ کیا ہے جس کے دوران انہوں نے امریکی امداد سے تعمیراتی منصوبوں کا جائزہ بھی لیا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا محمود خان سے ملاقات کے دوران امریکی سفیر نے امریکا کی جانب سے اقتصادی ترقی، تجارت، تعلیمی شراکت اور سرمایہ کاری کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔

سفیر بلَوم نے طورخم سرحد کا دورہ بھی کیا تاکہ اندازہ کیا جا سکے کہ یہ کس طرح خیبر پختون خوا کی اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں میں معاون ہے۔

انہوں نے 46 کلو میٹر طویل پشاور تا طورخم سڑک کا معائنہ کیا جو 8 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز مالیت کا امریکی منصوبہ ہے جس کی بدولت روزانہ مسافروں، تاجروں کی نقل و حمل اور گاڑیوں کی دیکھ بھال کا خرچ نصف ہو گیا ہے۔

اپنے دورے کے دوران سفیر بلَوم اور امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے مشن ڈائریکٹر رِیڈ ایسچلیمین نے خیبر پختون خوا کے محکمۂ صحت کو 36 گاڑیوں کا عطیہ بھی دیا جو کووڈ 19 کی وباء سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے سہولتوں سے آراستہ ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں امریکا کی جانب سے پاکستان میں بچوں کے لیے 1 کروڑ 60 لاکھ کووڈ 19 کی ویکسین کی خوراک فراہم کرنے کا بھی اعلان سامنے آیا تھا جس کے بعد امریکا کی جانب سے اب تک پاکستان کو فراہم کی گئی کورونا ویکسین کی خوراک کی تعداد 7 کروڑ 70 لاکھ ہو جائے گی۔

امریکی سفیر نے پشاور میں برنز اور پلاسٹک سرجری سینٹر کا بھی دورہ کیا، یہ جدید ترین سینٹر یو ایس ایڈ کی مد میں 1 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز سے تعمیر اور ضروری ساز و سامان سے آراستہ کیا گیا ہے، یہ اپنی نوعیت کا پاکستان کا سب سے بڑا سینٹر ہے اور 2019ء میں اپنی تعمیر سے اب تک 5 ہزار مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کر چکا ہے۔

یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کے دورے کے دوران سفیر بلَوم نے کہا کہ اُن کے لیے یہاں کا دورہ ناصرف باعثِ اعزاز ہے بلکہ انہیں اس بارے میں جاننے کا موقع بھی ملا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس برس امریکا اور پاکستان اپنے تعلقات کا پچھترواں یومِ تاسیس منا رہے ہیں، یہ مرکز دونوں ملکوں کے مشترکہ وژن اور بے پناہ کامیابیوں کا آئینہ دار بھی ہے۔

یاد رہے کہ امریکا نے یو ایس ایڈ کے 12 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز مالیت کے منصوبے کے تحت پاکستان بھر میں انجینئرنگ کی جامعات کے ساتھ مل کر پانی، توانائی اور خوراک کے تحفظ کے حوالے سے اس قسم کے جدید تعلیمی مراکز قائم کیے ہیں۔

سفیر بلَوم کے اس دورے کے دوران امریکی سفارت خانے کے انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لاء کی ڈائریکٹر لوری انٹولائنیز نے خیبر پختون خوا کی قانونی چارہ جوئی کی اکیڈمی کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی جس کے لیے امریکی حکومت نے مالی امداد فراہم کی ہے۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں لوری انٹولائنیز نے کہا کہ 20 لاکھ ڈالرز سے قائم کی گئی یہ اکیڈمی ہر سال استغاثہ سے وابستہ 200 افراد کو تربیت فراہم کر سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ 1989ء سے اب تک امریکی محکمۂ خارجہ کے آئی این ایل بیورو نے خیبر پختون خوا کی حکومت کو معیشت اور زراعت کے فروغ، نظام انصاف کو تقویت دینے، تحفظ اور استحکام کی ترویج کےلیے 30 کروڑ ڈالرِز کی امداد فراہم کی ہے، جس میں 1240 کلو میٹر طویل سڑکوں کی تعمیر بھی شامل ہے تاکہ صوبے کے کاشتکاروں اور تاجروں کو اپنی اجناس اور سامان منڈیوں تک لے جانے کی سہولت حاصل ہو، اس کے علاوہ امریکا نے پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور زراعت کے 1300 منصوبوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے 420  مختلف سہولتیں فراہم کی ہیں جن میں پولیس اسٹیشنز کی تعمیر کے لیے فراہم کی گئی مالی امداد بھی شامل ہے۔



Leave a Reply

Your email address will not be published.