فائل فوٹو

پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ الیکشن کے نتائج میں تاخیر کا مطلب ہمیں اچھی طرح پتہ ہے، لاہور میں نتیجہ اچانک تبدیل ہوا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیری رحمٰن نے کہا کہ ایپ بند کردی گئی تو ہم الیکشن کمیشن پہنچے، ہم گالی گلوچ اور دھونس دھمکی کی سیاست نہیں کرتے۔

شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ بہت سے رزلٹ ہیں جنہیں ہم احترام سے قبول کرتے ہیں،  87 نتائج کے بعد صبح 6 بجے ہمارےچیف پولنگ ایجنٹ کو کمرے سے نکال دیا، ہم پٹیشن لے کر لاہور ہائی کورٹ گئے، ہمیں دروازہ کھولنا اور کھلوانا بھی آتا ہے، انٹرنیٹ بند کیا گیا، مجھے تو کوئی سیکیورٹی صورتِ حال نظر نہیں آئی۔

پیپلز پارٹی کی رہنما کا کہنا ہے کہ بلاول کی کلیئر لیڈ تھی، ہر چینل پر آ چکی تھی، لاہور کسی کی جاگیر نہیں، پورا پاکستان ہمارے ووٹروں کے لیے کھلا ہونا چاہیے، ہم بات کریں گے سوال اٹھائیں گے، اس طرح نہیں ہوتا آپ لوگوں کے ووٹ کا حق چھینیں۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو جیت رہے تھے، پھر نتائج روک کر بدلنا شروع ہو جاتے ہیں، لیڈ تبدیل ہوتی ہے اور آزاد اوپر آتا ہے، جادو بہت سیٹوں پر ہے مگر ادھر بھی ہوا تھا، ہم نے ایپ بنایا تھا اور 63 ہزار اس پر ووٹ سرچ ہوا، آج صبح دس بجے تک رزلٹ آجانے چاہئیں تھے مگر نہیں آئے۔

شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کے ووٹ غائب کر لیے گئے، جو رزلٹ آئے ان کو ہم قبول کرتے ہیں مگر تاخیر کا جواب نہیں ہے، آر او تک رسائی حق ہے فارم 45 ملنے چاہئیں، بڑے حلقوں سے رزلٹ آ رہے تھے مگر ہمارے روک لیے گئے، صبح سے موبائل انٹرنیٹ بند کر دیا گیا، پارلیمان میں جب الیکشن ہوتا ہے تو سب ساتھ بیٹھتے ہیں، گفت و شنید سب سے ہوتی ہے، جمہوریت صرف جھنڈا لہرانے کی بات نہیں۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *