لاہور کے جنرل اسپتال سے اچانک غائب ہونے والی 22 سالہ طالبہ کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا۔

پولیس کے مطابق عائشہ دماغ کی بیماری کی ادویات کھاتی ہے اور وہ ایدھی سینٹر پہنچ گئی تھی، لڑکی کو بھائی سے ملوادیا ہے۔

یونیورسٹی جاتے ہوئے 22 سالہ طالبہ کی بس میں طبیعت خراب ہوئی تھی، جسے ریسکیو 1122 کے ذریعے جنرل اسپتال پہنچایا گیا۔

ایمرجنسی میں لڑکی ہوش میں تھی، پھر خود اٹھ کر چلی گئی، لڑکی کے ورثا اسپتال پہنچے تو انہیں لڑکی نہیں ملی۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق ڈاکٹر نے لڑکی کا معائنہ کیا اور دوا لکھ کر دی، نصف گھنٹے بعد لڑکی چلی گئی، اسپتال سے جانے کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی سامنے آئی تھی۔

جنرل اسپتال لاہور کے اے ایم ایس ڈاکٹر جعفر حسین نے بتایا کہ 2 ریسکیو اہلکار طالبہ عائشہ کو صبح ساڑھے 8 بجے چونگی امرسدھو میٹرو اسٹیشن سے لائے تھے۔

تاہم دو گھنٹے بعد طالبہ تیزی سے اسپتال سے باہر نکل گئی، ڈاکٹر جعفر کے مطابق عائشہ ہوش میں اور صحت مند تھی، 2 ڈاکٹرز نے اس کا چیک اپ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سینئر پروفیسر کا راؤنڈ شروع ہوا تو وہ اچانک غائب ہوگئی، ریسکیو اہلکاروں نے طالبہ کا بیگ، کتابیں اور موبائل فون اس کے والدین کے حوالے کردیا۔

عائشہ کے والدین اور رشتے داروں نے اس کی بازیابی کےلیے جنرل اسپتال کے باہر احتجاج بھی کیا۔

تاہم پولیس کے مطابق عائشہ ایدھی سینٹر سے مل گئی اور وہیں پر اسے اس کے بھائی سے ملوا دیا گیا، عائشہ باگڑیاں چوک ٹاؤن شپ کی رہائشی ہے۔



Leave a Reply

Your email address will not be published.