—فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی اپیل کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے ہیں کہ مفروضے پر نہیں جا سکتے، نیب دستاویز سے نوازشریف کا پراپرٹیز سے تعلق ثابت کرے، مریم نواز کی اپیل میرٹ پر سنیں گے۔

مریم نواز اور کپٹن ریٹائرڈ صفدر کی سزا کے خلاف اپیل پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل بینچ نے سماعت کی۔

دورانِ سماعت مریم نواز عدالت میں پیش ہوئیں، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی کے ہمراہ نیب کی پراسیکیوشن ٹیم بھی عدالت میں پیش ہوئی۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ نواز شریف کی اپیل میرٹ پر نہیں عدم حاضری پر خارج کی گئی تھی، مگر مریم نواز کی اپیل میرٹ پر سنیں گے، انہوں نے اپنا کیس بنایا ہے کہ عدالتی فیصلے میں کیا قانونی سقم ہیں، نیب کو اس کا دفاع کرنا ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نیب کہتا ہے کہ نوازشریف نے 1993ء میں اثاثے خریدے اور چھپائے، پھر شواہد سے ہی ثابت کرنا ہے کہ مریم نواز نے اپنے والد کی معاونت کیسے کی؟

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ہم وہ ٹریک کلیئر کر رہے ہیں جس پر آپ نے آگے جانا ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے مریم نواز کے وکیل سے مخاطب ہو کر کہا کہ امجد پرویز صاحب! آپ نے دلائل مکمل کر لیے تھے، اب نیب کی باری ہے،جس کے بعد نیب پراسیکیوٹر عثمان چیمہ نے دلائل دیے۔

نیب کے پراسیکیوٹر نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کا عدالتی فیصلہ پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے لکھا ہے کہ نواز شریف کو فیئر ٹرائل کا حق دیا گیا تھا، عدالت نے لکھا کہ مسلسل عدم حاضری پر عدالت کے پاس اپیل خارج کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

پراسیکیوٹر نے بتایا کہ عدالت نے لکھا تھا کہ فیئر ٹرائل کا موقع ملنے کے بعد نواز شریف کو سزا سنائی گئی، مرکزی ملزم اب نہ عدالت کے سامنے ہے اور نہ ان کی اپیل موجود ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ آگے بھی پڑھ لیں کہ کیا لکھا ہے۔

نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق وہ سرینڈر کریں یا پکڑے جائیں تو دوبارہ اپیل دائر کر سکتے ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نواز شریف کی اپیل ہمارے سامنے نہیں تو یہ مطلب نہیں کہ ان پر فردِ جرم ٹھیک ثابت ہو گئی، نواز شریف کی اپیل میرٹ پر نہیں عدم حاضری پر خارج کی گئی تھی۔

نیب کے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے آرڈر پر یہ کیسز بنائے گئے تھے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم نے تو ٹرائل پروسیڈنگ کو دیکھنا ہے، سپریم کورٹ کے آرڈر کے بعد ریفرنس دائر اور ٹرائل ہوا، ریفرنس اپنی اسٹرینتھ پر چلنا ہے، اس اپیل کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کا کوئی تعلق نہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ تو اس کیس کا بیک گراؤنڈ ہے، اب آپ آگے چلیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیا۔

جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جو آبزرویشن دیں ان کا آپ کو ابھی فائدہ نہیں ملنا۔

جسٹس محسن اخترکیانی نے کہا کہ سپریم کورٹ کی وہ آبزرویشن ٹرائل سے پہلے تک تھیں۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا جے آئی ٹی کے بعد نیب نے مزید تفتیش کی؟

نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ نیب نے بھی آزادانہ تفتیش کی، ملزمان کو کال اپ نوٹسز بھجوائے گئے۔

جسٹس محسن اخترکیانی نے کہا کہ ملزمان تو آج بھی اسی جگہ کھڑے ہیں کہ وہ ٹرسٹ ڈیڈ کو تسلیم کرتے ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف کیا کیس تھا؟ مختصراً بتائیں کہ ان کے خلاف کیا کیس تھا؟

نیب پراسیکیوٹرنے بتایا کہ مریم نواز نے نواز شریف کو آمدن سے زائد اثاثے بنانے میں معاونت کی۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ نے بتانا ہے کہ مریم نواز نے کس انداز میں نواز شریف کی معاونت کی؟ ہم نے ایک فیصلہ لکھنا ہے تو ہمیں سب چیزوں میں کلیئر ہونا چا ہیے، یہ اپارٹمنٹس کیسے خریدے گئے؟

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ آف شورکمپنیوں نیلسن اور نیسکول نے یہ اپارٹمنٹس خریدے۔

دورانِ سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں رش کی وجہ سے ایک وکیل بے ہوش ہو گیا، جسے طبی امداد دی گئی۔

عدالت نے سماعت کے دوران کہا کہ اگر اثاثے بنانے میں معاونت کی تو پھر ٹرسٹ ڈیڈ اور کیلبری فونٹ کو چھوڑ کر 1993ء سے چلیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم اس معاملے کو 2006ء میں ٹرسٹ ڈیڈ کے ساتھ لے کر چلیں گے۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ پھر 1993ء میں مریم نواز کا کوئی کردار نہیں ہوا۔

نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ مریم نواز نے 2006ء میں مدد اور معاونت کی۔

جسٹس عامر فاروق نے آپ کہتے ہیں کہ نوازشریف نے1993ء میں اثاثے خریدے اور چھپائے، پھر آپ نے شواہد سے ثابت کرنا ہے کہ مریم نواز نے اپنے والد کی معاونت کیسے کی؟

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ہم وہ ٹریک کلیئر کر رہے ہیں جس پر آپ نے آگے جانا ہے۔

مریم نواز کے وکیل نے بتایا کہ نیلسن اور نیسکول برٹش ورجن آئی لینڈ کے پاس رجسٹرڈ ہیں، نیلسن اور نیسکول نے 1993ء-1995ء اور 1996ء میں اپارٹمنٹس خریدے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیا ابھی ان اپیلوں سے یہ سوال متعلقہ ہے کہ یہ پراپرٹیز کیسے خریدی گئیں؟ پہلے نیب نے یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ پراپرٹیز نواز شریف نے خریدیں، اگر وہ پراپرٹیز خریدی گئیں تو پھر اس میں معاونت کا الزام آئے گا، ہم مفروضے پر نہیں جا سکتے، ہم نے حقائق کو دیکھنا ہے، آپ نے ٹرائل کورٹ میں یہ ثابت کیا ہے تو وہ بتائیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایسے کیسز موجود ہیں کہ مرکزی ملزم بری ہو گیا مگر معاونت کرنے والوں کو سزا ہوئی۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ ڈاکیومنٹ سے نوازشریف کا پراپرٹیز سے تعلق ثابت کریں، ہر کیس کے الگ حقائق ہوتے ہیں، ہم جو کیس سن رہے ہیں اس کے حقائق دیکھیں گے۔

پراسیکیوٹر نے کہا کہ نواز شریف کی اپیل خارج ہو چکی اور ان کی اپیل اب عدالت کے سامنے نہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نواز شریف کی اپیل میرٹ پر نہیں، عدم حاضری پر خارج ہوئی تھی، ہم نے اس کیس میں میرٹ پر فیصلہ نہیں دیا۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نواز شریف اور ان کے بچے وہاں پر رہ رہے تھے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ عوامی معلومات کی کسی بات پر آپ پر بوجھ شفٹ تو نہیں ہو جاتا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آپ فی الحال پراپرٹی کی ملکیت کو نواز شریف سے لنک کر دیں، یہاں تو آدھا پاکستان دوسروں کے گھروں میں رہ رہا ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پہلے یہ سمجھائیں کہ 1993ء میں نیلسن اور نیسکول کا نواز شریف سے کیا تعلق تھا؟ نواز شریف نے کیا کہیں بھی کہا تھا کہ یہ جائیداد اُن کی ہے؟

مریم نواز کے وکیل نے بتایا کہ نواز شریف نے کسی بھی فورم پر نہیں کہا کہ جائیداد ان کی ہے۔

عدالت نے ہدایت کی کہ یہ بھی بتائیں کہ کیا اپارٹمنٹس خریدنے کے لیے ادائیگی نواز شریف نے کی؟

عدالت نے کہا کہ نواز شریف کا کمپنیوں کے ساتھ تعلق ثابت کریں، کمپنیوں کا فلیٹس کے ساتھ تعلق ثابت کریں، فلیٹس 1993ء میں خریدنا ثابت کریں، پھر مریم نواز کا فلیٹس سے تعلق ثابت کریں۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس سے زیادہ آسان زبان میں نیب سے سوال نہیں کر سکتے۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کے سوالوں پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہماری آج کہ لیے بس ہو گئی ہے۔

اس کے ساتھ ہی عدالتِ عالیہ نے مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی اپیلوں پر سماعت 29 ستمبر تک ملتوی کر دی۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *