پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے خاتون جج کو دھمکی دینے کے معاملے پر توہین عدالت کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ نے تحریری حکم نامہ جاری کیا۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ فریقین کے وکلا، اٹارنی جنرل اور عدالتی معاونین کو سنا گیا، عمران خان کا جواب تسلی بخش نہیں۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ عمران خان پر 22 ستمبر کو فرد جرم عائد کی جائے گی۔

تحریری حکم نامہ 2 صفحات پر مشتمل ہے، جسے 5 رکنی لارجر بینچ نے جاری کیا۔

تحریری حکم نامہ کے مطابق 22 ستمبر کو دن ڈھائی بجے کیس کی سماعت ہو گی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللّٰہ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔  بینچ میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار شامل ہیں۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف 20 اگست کو مجسٹریٹ علی جاوید کی مدعیت میں تھانہ مارگلہ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ 20 اگست کو پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کی گرفتاری کے خلاف عمران خان کی قیادت میں ریلی نکالی گئی جس کا راستہ زیرو پوائنٹ سے ایف 9 پارک تک تھا، اس دوران عمران خان کی تقریر شروع ہوئی جس میں انہوں نے اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ ترین افسران اور ایک معزز خاتون ایڈیشنل جج صاحبہ کو ڈرانا اور دھمکانا شروع کیا۔

ریلی سے خطاب میں عمران خان نے اسلام آباد پولیس کے آئی جی اور ڈی آئی جی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم تمہیں چھوڑیں گے نہیں‘۔

اس کے بعد عمران خان نے عدلیہ کو اپنی جماعت کی طرف متعصب رویہ رکھنے پر بھی خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وہ بھی نتائج کے لیے تیار ہو جائیں۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *