چیئرمین تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے کہا ہے کہ آزاد عدلیہ کی تحریک کے دوران انہیں جیل بھیجا گیا، اب پھر انہیں جیل میں ڈالنے کی کوشش ہورہی ہے، لیکن جیل ان کے لیے چھوٹی چیز ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ جس کو ملک کا وزیر اعظم بنایا گیا اس کا بڑا بھائی نواز شریف لندن میں بیٹھا ہوا ہے، وہ وہاں بیٹھ کر حکم دے رہا ہے کہ فلاں کو گرفتار کرو۔

چشتیاں میں پی ٹی آئی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ن لیگ کا گڑھ چشتیاں نہیں لندن ہے، پاکستانی باہر محنت کرکے پیسا پاکستان بھیجتے ہیں، یہ یہاں سے پیساچوری کرکے باہر بھیج دیتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ نواز شریف سن لو! تمہارا انتظار کر رہا ہوں، جلدی واپس آؤ، ساری قوم تمہارا ایسا استقبال کرے گی کہ ملکی تاریخ میں کسی کا نہیں ہوا، نواز شریف کیوں مفرور ہے؟ اس کی کہانی 10سال پہلے شروع ہوتی ہے، شہباز شریف کا بیٹا مفرور ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ نواز شریف نے مریم کے نام پر لندن میں چار محل خریدے، یہ لوگ تیس سال سے پیسا چوری کرکے لے جا رہے ہیں، یہ سیاستدان نہیں ہیں، ڈاکو ہیں، چھوٹے ذاتی فائدوں کی وجہ سے ان کو ووٹ دینے کی بھاری قیمت قوم چکا رہی ہے۔

 عمران خان نے کہا کہ یہ سارا خاندان لندن میں ہے صرف کمائی کرنے پاکستان آتے ہیں، جب تک ملک میں انصاف نہیں کرتے خوشحال نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے کہا کہ بہاولپور میں بڑی مونچھوں والے لوٹے کو مقابلے میں ہراؤں گا، الیکشن کمیشن ان کا پالتو ہے، کبھی ایک کیس کبھی دوسرا کیس بنایا جاتا ہے، یہ ملک بھی میراہے اور فوج بھی میری ہے، میں نےکبھی اداروں کو کمزور کرنےکی کوشش نہیں کی، یہ مجھےکہہ رہے ہیں سیاست نہ کرو سیلاب کیلئے کام کرو، حقیقی آزادی کی تحریک بھی چلاؤں گا چوروں کے خلاف بھی کام کروں گا۔

عمران خان نے کہا کہ نئی سیاست ہو رہی ہے، پنجاب حکومت گرانے کی سازش ہو رہی ہے، ہمارے ایم پی ایز کو کروڑ روپے کی آفر بھی دے رہے ہیں، مسٹر ایکس اور وائی بھی دھمکیاں دے رہے ہیں، چیلنج ہے جو مرضی کرلو تم شکست کھاؤگے ہاروگے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب آیا ہوا ہے اور ہمیں دنیا کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑتا ہے، اسمبلی میں بڑے ڈاکو دیکھے اور جیل میں تمام چھوٹے چور دیکھے، ہم ملک کے بڑے بڑے ڈاکوؤں کو وزیر اعظم بنا دیتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ  آج ملک کی سربراہی کرنے والے 30 سال سے ملک کو لوٹ رہے ہیں، ہم اپنے بچوں کو پڑھا نہیں سکتے اعلیٰ تعلیم نہیں دے سکتے۔



Leave a Reply

Your email address will not be published.