یورپ میں مقیم اوورسیز پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے اس مرتبہ موسم گرما کی تعطیلات منانے کے لیے اپنے خاندانوں کے ساتھ وطن عزیز کا رخ کیا اور ان میں سے بہت سارے پاکستانی پنجاب کے شہروں منڈی بہاء الدین، گجرات، گوجرانوالہ اور چکوال گئے۔

پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ ان شہروں اور گردونواح کے علاقوں میں کھانے پینے کی غیر میعاری اشیاء کی کھلے عام فروخت جاری ہے۔ خصوصاً پاؤڈر ملا دودھ  جسے تازہ دودھ قرار دیا جاتا ہے۔ 

پاکستانی شہریوں کے مطابق اس ناقص اور غیرصحت بخش دودھ سے متعدد افراد بیماریوں میں مبتلا ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض لوگ پاؤڈر کے ساتھ یوریا کھاد ملا کر صحت بخش دودھ کے نام پر جو دودھ فروخت کررہے وہ انتہائی خطرناک ہے۔

علاوہ ازیں گلی محلوں میں مختلف فاسٹ فوڈ آئٹمز تیار کرکے فروخت کی جارہی ہیں جو کہ غیرمعیاری اور صحت کے لیے نقصاندہ ہیں۔ گھروں میں بیٹھ کر بزنس کرنے والے لوگ ناقص اشیاء فروخت کرنے کے علاوہ ٹیکس، کمرشل بجلی و گیس سے بھی بچے ہوئے ہیں۔ شکایت کنندگان کے مطابق ناقص اور مضر صحت اشیاء کی سرعام فروخت کی سرپرستی فوڈ کنٹرول اتھارٹی کرتی ہیں۔

اوورسیز پاکستانیوں نے ارباب اختیار خصوصی طور  سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس و دیگر اعلیٰ حکام کو خطوط ارسال کیے ہیں کہ ان معاملات کا فوری نوٹس لیا جائے۔

 اوورسیز پاکستانیوں نے پنجاب فوڈ کنٹرول اتھارٹی کو خصوصی طور پر خط ارسال کیا ہے کہ وہ انسانی جانوں سے کھیلنے کے اس عمل کا فوری نوٹس لے۔ خط کے مطابق اوورسیز پاکستانی جب وطن عزیز جاتے ہیں تو واپسی پر ان کو اسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ مغربی ملکوں خصوصاً یورپ اور امریکا میں خوراک کے معیار پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا ہے اور ایسے انسانیت دشمن مجرموں سے بہت سختی سے نمٹا جاتا ہے۔

انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ پاکستان میں بھی ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔



Leave a Reply

Your email address will not be published.