جاپان کے لیے مقرر ہونے والے نئے پاکستانی سفیر رضا بشیر تارڑ کو جاپان میں تعیناتی کی ابتدا سے ہی زبردست چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی تیسری بڑی معیشت جاپان کے لیے پاکستانی برآمدات سکڑ کر تاریخ کی کم ترین سطع پر پہنچ گئی ہے اور یہ صرف دو سو ملین ڈالر تک رہ گئی ہے۔

جبکہ تجارت کو بڑھانے کے ذمہ دار ٹریڈ اینڈ کمرشل اتاشی طاہر حبیب چیمہ کے خلاف کرپشن، کِک بیک اور اختیارات کے ناجائز استعمال جیسے الزامات کے تحت نیب اور وزارت تجارت میں تحقیقات جاری ہیں۔

لیکن اپنے اثر و رسوخ کے باعث وہ آج بھی جاپان میں بیٹھ کر صرف کاغذوں میں اپنی بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں، کمیونٹی کے ساتھ سفارتخانے کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔

کمیونٹی گروپوں میں تقسیم ہے اور سفارتخانہ لڑاؤ اور حکومت کرو کے فارمولے پر عمل پیرا ہے، کم از کم چھ پاکستانیوں کے خلاف سفارتخانے نے جاپانی پولیس میں جھوٹے مقدے بھی دائر کیے ہیں۔

جس میں سفارتخانے کو شکست ہوئی اور پاکستان بدنام ہوا، سفارتخانے کے ٹیم آفیسر کے خلاف جاپانی پولیس نے دو دفعہ تحقیقات کی کوشش کی لیکن ان کے لیے سفارتی استثنیٰ حاصل کیا گیا۔

لہٰذا اس مشکل صورتحال میں نئے پاکستانی سفیر کو معاملات کو ٹھیک کرنے میں زبردست چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا۔



Leave a Reply

Your email address will not be published.