[ad_1]

سندھ ہائی کورٹ—فائل فوٹو
سندھ ہائی کورٹ—فائل فوٹو

سندھ ہائی کورٹ نے انڈسٹریز کیلئے گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے حکمِ امتناع جاری کر دیا۔

عدالتِ عالیہ میں صنعتوں کے لیے گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

گیس درآمد اور برآمد کرنے والی 400 سے زائد کمپنیوں نے نگراں حکومت کے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے۔

عدالت نے نگراں حکومت کا 8 نومبر اور 14 دسمبر 2023ء کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا اور کمپنیوں کو اضافی رقم ناظر سندھ ہائی کورٹ کے پاس جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔

عدالت نے ناظر کے بجائے وفاقی حکومت کو رقم ادا کرنے کی استدعا مسترد کر دی اور حکم دیا کہ جب تک حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا اضافی رقم ناظر سندھ ہائی کورٹ کے پاس ہی جمع رہے گی۔

عدالت نے وفاقی حکومت، اوگرا، ایس ایس جی سی اور دیگر سے 14 مارچ کو تحریری دلائل طلب کر لیے اور انڈسٹریز کے لیے گیس کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا۔

انڈسٹریز کےوکیل نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق گیس جس صوبے میں پیدا ہو گی سب سے پہلے اسی صوبے کی ضروریات کو پورا کیا جائے، تاثر ہے کہ بلوچستان میں گیس کی سب سے زیادہ پیداوار ہوتی ہے، جبکہ ملک میں سب سے زیادہ گیس صوبۂ سندھ میں پیدا ہوتی ہے، گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنا نگراں وفاقی حکومت کا اختیار ہی نہیں تھا، نگراں وزیرِ اعلیٰ سندھ نے بھی وفاقی حکومت کو گیس کی قلت دور کرنے کے لیے خط لکھا تھا، نگراں حکومت روز مرہ کے معاملات چلا سکتی تھی، بڑے پالیسی معاملات میں فیصلہ نہیں لے سکتی تھی۔

وفاقی حکومت کےوکیل نے کہا کہ نگراں وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کی شرط پر ریونیو بڑھانے کے لیے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔

جسٹس محمود اے خان نے وفاقی وکیل سے سوال کیا کہ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ کہاں ہے؟ جو کاپی عدالت میں پیش کی گئی وہ معاہدہ نہیں پریس ریلیز ہے، آئی ایم ایف کی پریس ریلیز کے مطابق شرط صرف ریونیو بڑھانے کی تھی، نگراں حکومت کا گیس کی قیمتوں میں اضافے کا اور ٹیکس بڑھانے کا اپنا پروپوزل تھا۔

اوگرا کے وکیل نے کہا کہ درخواست گزار گیس کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلوں میں موجود تھے، آدھے درخواست گزار حکومت میں شامل تھے اور صورتِ حال کو جانتے ہیں۔

جسٹس محمود اے خان نے کہا کہ روحوں کا حال تو اللّٰہ جانتا ہے، ہم تو صرف اعمال دیکھ رہے ہیں۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ پالیسی معاملات میں عدالت کا مداخلت کا بھی اختیار نہیں۔

عدالت نے کہا کہ یہ تو پرانی باتیں ہے، عدالت قانون دیکھے گی، جو کچھ آپ نے کہا وہ بھی فیصلے میں لکھ دیں گے۔

اوگرا کے وکیل نے کہا کہ قیمتوں کا تعین اوگرا کرتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ اوگرا ریگیولٹر ہے، معاملات کو کنٹرول بھی کرتا ہے۔

اوگرا کے وکیل نے کہا کہ اوگرا صرف منشی کا کام کرتا ہے، سب سے زیادہ بینیفشری چیمبر آف کامرس ہے، اوگرا میں بیٹھے لوگ اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنے دوسرے ہیں۔



[ad_2]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *