[ad_1]

لاہور ہائی کورٹ، فائل فوٹو
لاہور ہائی کورٹ، فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ میں قرآن بورڈ کی اجازت کے بغیر قرآن پاک کے چھاپنے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

دورانِ سماعت نگراں وزیرِ اعظم اور نگراں وزیرِ اعلیٰ پنجاب عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے۔ 

عدالت میں سوال کیا گیا کہ افسران بتائیں کہ وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلیٰ پیش ہوں گے یا پالیسی بیان دیں گے۔

جس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ ہم عدالت کے حکم پر عمل درآمد کریں گے۔

عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل سے کہا کہ اتنے سال سے آپ کچھ کر نہیں سکے۔ 

وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ مجھے ہدایت لینے کے لیے مہلت دی جائے۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب ابھی وزیرِ اعظم سے ملنے اسلام آباد گئے ہیں۔

جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس پر جواب میں کہا کہ وزیرِ اعلیٰ صرف سڑکوں عمارتوں کے افتتاح کرتے ہیں۔

 ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومت مشترکہ کمیٹی بنا رہے ہیں۔

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے کہا کہ آپ صرف وقت ضائع کر رہے ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت سے جواب دینے کے لیے مہلت مانگ لی۔

آئی جی پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ڈی جی ایف آئی اے اور سیکیورٹی فورسز سے بات کی ہے، عدالت کے حکم پر عمل درآمد کریں گے۔

اس کے بعد عدالت نے اس کیس کی سماعت کو 4 بجے تک ملتوی کر دیا۔



[ad_2]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *