فائل فوٹو/اسکرین گریب

چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی)، سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو کس کے حکم پر گرفتار کیا گیا ہے یہ بات سامنے آ گئی۔

جاری کیے گئے قومی احتساب بیورو (نیب ) کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کی ہدایت چیئرمین نیب نے دی۔

نیب کے اعلامیے کے مطابق نیب کی جانب سے عمران خان کے وارنٹ یکم مئی کو جاری ہوئے، ان کی گرفتاری کے وارنٹ چیئرمین نیب کے دستخط سے جاری ہوئے۔

نیب نے عمران خان کو نیشنل اکاؤنٹیبلیٹی آرڈیننس 1999ء کے سیکشن 9 اے کے تحت گرفتار کیا ہے۔

عمران خان کو نیب نے 34 اے، 18 ای، 24 اے کے تحت کارروائی عمل میں لاتے ہوئے گرفتار کیا۔

نیب کے اعلامیے کے مطابق عمران خان پر کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز میں ملوث ہونے کا الزام ہے، چیئرمین نیب نے عمران خان کی گرفتاری کی ہدایت یکم مئی کو دی تھی۔

اعلامیے میں نیب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عمران خان کو نیب راولپنڈی کے آفس منتقل کردیا گیا ہے، جس کے بعد انہیں متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

نیب کے مطابق عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا گیا ہے تاہم انہیں رینجرز نے حراست میں نہیں لیا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 پہلے سے ہی نافذ تھی، وزارتِ داخلہ کے حکم پر رینجرز وہاں قانون کی عمل داری کے لیے موجود تھی۔

نیب کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کا حکم نیب کی جانب سے تھا اور اس پر عمل درآمد بھی نیب نے ہی کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق نیب راولپنڈی کے آفس میں عمران خان کا طبی معائنہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ آج چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر القادر ٹرسٹ کیس میں نیب کے وارنٹ پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *