—فائل فوٹو

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نیب ترمیمی ایکٹ میں ترمیم کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف پارک لین ریفرنس بھی نیب کو واپس بھجوا دیا۔

احتساب عدالت اسلام آباد کے جج ناصر جاوید رانا نے سماعت کرتے ہوئے کہا کہ دائرہ اختیار ختم ہونے پر اب ریفرنس کی سماعت نہیں کر سکتے۔

عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری سمیت دیگر ملزمان کے خلاف پارک لین ریفرنس پر ترمیمی ایکٹ 2022ء کے بعد عدالتی دائر اختیار ختم ہونے کے باعث سماعت ختم کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔

پٹیشنر کے وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ ترمیمی ایکٹ کے بعد پارک لینڈ ریفرنس احتساب عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ عدالتی نظیر کے طور پر پیش کیا۔

نیب کے پراسیکیوٹر عثمان مسعود نے بریت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے بتایا کہ نیشنل بینک اور ایک نجی بینک (سمٹ بینک) کا جوائنٹ ونچر ہوا تھا جس کے تحت 1.5 بلین کا قرض لیا گیا جو بعد میں 2.8 بلین تک بڑھا دیا گیا، عدالت اس کیس میں دائرہ اختیار کا تعین کرے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد دائرہ اختیار ختم ہونے کا فیصلہ سناتے ہوئے ریفرنس نیب کو واپس کر دیا۔



Leave a Reply

Your email address will not be published.