پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما اسد عمر نے دعویٰ کیا ہے کہ ہمارے دور میں 55 لاکھ نوکریاں ملیں۔

فیصل آباد میں خطاب کے دوران اسد عمر نے کہا کہ حکمرانوں کی ساری توجہ عمران خان پر جھوٹے مقدمات بنانے اور اپنے کرپشن کے کیسز ختم کرنے پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے دور میں 11 لاکھ اور پی ٹی آئی کے دور میں 55 لاکھ نوکریاں ملیں۔

پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں ملک ترقی کر رہا تھا، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والا لیڈر دیکھا نہ گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایل سی نہیں کھلے گی، امپورٹ پر آئے مال کی ادائیگی کے لیے ڈالر نہیں ہوگا تو تاجر کیا بیچے گا۔

اسد عمر نے یہ بھی کہا کہ رجیم چینج کے نتیجہ میں ملک بحرانوں کا شکار ہو گیا، سیاسی، معاشی اور معاشرتی بحران ایک ساتھ آگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے گر گئے، روپے کی قدر میں کمی ہوئی، افراط زر پیدا ہوا، ملکی تاریخ میں پہلی بار اتنی زیادہ مہنگائی ہوئی ہے۔

پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما نے کہا کہ موجودہ حکمران سازش کے تحت اقتدار میں آئے اور ملک کا بیڑہ غرق کردیا، امپورٹڈ حکمرانوں کی ساری توجہ اپنے کرپشن کیسز ختم کرنے پر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی میدان میں عمران خان کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو جھوٹے مقدمات درج کر کے دبانا چاہتے ہیں مگر عوام کے ذہنوں میں تبدیلی آ چکی ہے، قوم فیصلہ کر چکی ہے کہ غلامی نامنظور ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ ایک کروڑ نوکریوں کی بات پر مذاق اڑاتے تھے مگر ن لیگ کے 5 سالہ دور میں صرف 11 لاکھ نوکریوں کے مواقع پیدا ہوئے جبکہ ڈیفالٹ کے قریب ملنے والے ملک اور کورونا کے چیلنج کے باوجود پی ٹی آئی نے 55 لاکھ نوکریوں کے مواقع پیدا کیے۔

انہوں نے کہا کہ برآمدات میں ن لیگ کے دور سے دُگنا اضافہ کیا، بڑی صنعتوں نے 12 فیصد کی شرح سے ترقی کی۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ رجیم چینج نے بزنس کمیونٹی کیلئے دوبارہ مشکلات پیدا کردیں اور آج حکومت کے پاس ایل سیز کھولنے کیلئے ڈالر نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ادویات کے ضروری خام مال کےلیے بھی ایل سیز نہیں کھل رہیں، ملک کی موجودہ صورتحال پریشان کن ہے۔

اسد عمر نے ساتھ ہی امید دلائی کہ اس ساری صورتحال کے باوجود مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے، پی ٹی آئی دوبارہ اقتدار میں آکر عالمی سرمایہ کاروں کی مدد سے دوبارہ ملکی ترقی کا سفر شروع کرے گی۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *