کراچی میں شوہر کو قتل کرکے ٹکڑے کرنے اور دیگچی میں پکانے والی مجرمہ کو رہا کردیا گیا۔

مجرمہ نے اپنے بھتیجے کی مدد سے 2011ء میں واردات کی تھی، خاتون نے عدالت کو بتایا تھا کہ شوہر اس کی بیٹی پر جسمانی اور جنسی تشدد کرتا تھا۔

سندھ ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں خاتون سمیت دو ملزمان کی سزا کیخلاف اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے قتل کیس میں ملزمہ کی اپیل مسترد کردی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جیل ریکارڈ کے مطابق ملزمہ زینب نے 20 سال کا عرصہ جیل میں گزارا ہے، اگر وہ کسی اور کیس میں مطلوب نہیں تو رہا کیا جائے۔

عدالت نے شریک ملزم ظہیر کی اپیل منظور کرتے ہوئے ملزم کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم پر قتل میں معاونت کا جرم ثابت ہوتا ہے تاہم وہ سزا پوری کرچکا ہے۔

پراسکیویشن کے مطابق ملزمہ زینب نے 2011 میں اپنے بھتیجے ظہیر کے ساتھ مل کر اپنے شوہر احمد عباس کا قتل کیا تھا۔

ملزمہ نے اپنے شوہر احمد عباس کے ٹکڑے کردیے تھے وہ اپنے شوہر کے جسم کے ٹکڑے دیگچی میں ڈال کر پکا رہی تھی۔

ملزمہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ اس کا شوہر 16 سالہ بیٹی پر جسمانی اور جنسی تشدد کرتا تھا۔



Leave a Reply

Your email address will not be published.