اسکرین گریب

مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ اگر اس کو کہتے ہیں تو شارٹ مارچ کسے کہتے ہیں، یہ چوزے اور برگر ان تحریکوں کے لیے نہیں ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حنیف عباسی نے کہا کہ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا بندہ رات کو گھر جا کر سو جائے، صبح پھر ڈرامہ شروع کر لے۔

حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ جتنی چالیں انہوں نے چلنی تھیں، چل لیں، سیاسی تابوت میں آخری کیل ہم ٹھونکیں گے یا وہ خود ہی ٹھونک لیں گے، جیسے لاہور میں لوگوں نے ان کو مسترد کیا ویسے ہی راولپنڈی میں بھی مسترد کریں گے۔

صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے حنیف عباسی نے کہا کہ اگر پولیس 15 ہزار کے مجمع کو نہیں روک سکتی تو اور کس کو روکے گی، 25 مئی کو یہ سارا تھیٹر چل چکا ہے، تب سیکیورٹی نے بہت احترام سے ان کو مینج کیا ہے۔

صحافی نے سوال کیا اگر عمران خان ایف آئی اے میں7 نومبر کو نہیں آتے تو ایف آئی اے ان کو گرفتار کرے گی؟

حنیف عباسی نے کہا کہ اگر حکومت گرفتار نہیں کرتی تو یہ حکومت کی کمزوری ہو گی۔

صحافی نے پھر پوچھا کہ حکومت تو آپ کی اپنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں حکومت کو کہہ رہا ہوں، میں عہدیدار نہیں، اتھارٹیز کو ہی کہہ رہا ہوں، ہم ہمیشہ عدالتوں میں پیش ہوئے ہیں، نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز سب عدالتوں میں پیش ہوئے ہیں، 10سال ہو گئے عدالتوں میں آتے، کبھی میڈیکل سرٹیفکیٹ جمع نہیں کرایا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ میں نے نہ تو گاڑی کا دروازہ بند کر کے شیشے تڑوائے نہ 25 سال قید کا سن کر ججوں کو گالیاں دیں، ہم 25 سال قید کا سن کر بھی اسی نظام کے تحت سرخرو ہوئے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہو گا۔



Leave a Reply

Your email address will not be published.