پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عمران خان کا کہنا ہے کہ نہ اندرونی نہ بیرونی ہم کسی کی غلامی کرنے پر تیار نہیں، ان چوروں کی غلامی کرنے سے بہتر ہے ہم مر جائیں۔

لاہور میں ایم اے او کالج چوک میں لانگ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہمارا مقصد ملک کو حقیقی طور پر آزاد کرنا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ارشد شریف کو دھمکیاں دی گئیں، اسے ملک سے باہر جانا پڑا، ارشد شریف باہر جا کر بھی حق پر کھڑا رہا، اسے شہید کیا گیا۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ کیا امریکیوں کے غلاموں، ان ڈاکوؤں کو خود پر مسلط ہونے دیں گے۔

عمران خان کے کہنے پر فیصل جاوید نے لانگ مارچ کے شرکا سے حلف  لیا۔ جس کے بعد پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ایم اے او کالج چوک سے پی ایم جی چوک کی جانب روانہ ہوگیا۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد کے لیے لبرٹی چوک لاہور سے اپنے لانگ مارچ کا آغاز کیا، عمران خان لبرٹی چوک پر موجود کنٹینر پر سوار مارچ کی قیادت کر رہے ہیں، شاہ محمود قریشی، اسد عمر اور دیگر رہنما ان کے ہمراہ ہیں۔

اس موقع پر چیئرمین پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کے شرکاء سے ناصرف خطاب کیا بلکہ ان سے حلف بھی لیا۔

خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ میرے لیڈر قائدِ اعظم نے انگریزوں سے آزادی دلائی تھی، وقت آ گیا ہے کہ ملک کی حقیقی آزادی کا سفر شروع کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مارچ سیاست یا ذاتی مفادات کے لیے نہیں، بھارت تو روس سے سستا تیل لے سکتا ہے، غلام پاکستانیوں کو اس کی اجازت نہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ ہم اس ملک کی حقیقی آزادی کا سفر شروع کریں، میرا مارچ سیاست یا الیکشن کے لیے نہیں، ذاتی مفادات کے لیے نہیں، مقصد صرف ایک ہے کہ اپنی قوم کو آزاد کروں۔

وفاقی حکومت کو رپورٹ موصول ہوئی ہے، جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے لانگ مارچ میں مسلح جتھے شامل ہوسکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں اشتہاری اور جرائم پیشہ عناصر کے شامل ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔

ذرائع کے مطابق لانگ مارچ میں تخریبی عناصر کی موجودگی سے امن و امان کے سنگین مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں مسلح جتھے اور گینگز سابق وفاقی وزرا علی امین گنڈا پور، شہریار آفریدی اور سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری لا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلے بھی پی ٹی آئی کے مارچ میں مسلح افراد اور اسلحہ پکڑا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کے دفتر کو جرائم پیشہ عناصر کی سہولت کاری کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، پنجاب حکومت کی سرپرستی سے امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے میں مشکلات ہوسکتی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ گجرات، لاہور کے مضافات، اٹک، پشاور، گجر گڑھی، باڑہ، اور بڈھ بیر سے مسلح جتھوں کی آمد کا خطرہ ہے، صورتحال سے دہشت گرد تنظیمیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔



Leave a Reply

Your email address will not be published.