ڈیرہ اسماعیل (ڈی آئی) خان کی رہائشی زیتون بی بی کو 46 سال بعد وراثتی حق مل گیا۔

سپریم کورٹ نے زیتون بی بی کا والد کی جائیداد میں حصہ تسلیم کرلیا اور ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف بھائیوں کی اپیل خارج کردی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے اس دوران استفسار کیا کہ کم عمر بہن اپنے بھائیوں کو جائیداد کیسے تحفے میں دے سکتی ہے؟

سپریم کورٹ کے جج نے مزید کہا کہ ریکارڈ کے مطابق بہن کی جانب سے وکیل نے بیان دیا، پوچھتے ہیں کمسن لڑکی کی جانب سے کوئی وکیل کیسے بیان دے سکتا ہے؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے یہ بھی کہا کہ بھائیوں نے کبھی بہن کو جائیداد گفٹ دی ہے؟ ہر بار بہن ہی کیوں گفٹ دے۔

سپریم کورٹ کے جج کا کہنا تھا کہ گفٹ ڈیڈ میں کہیں آفر قبولیت کا ذکر نہیں تو اس کی قانونی حیثیت نہیں رہتی۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جب بہن نابالغ تھی تو بھائیوں نے کیسے بہن سے ساری جائیداد لے لی۔

زيتون بی بی نے جائیداد ميں حصہ کےلیے 2005 میں سول کورٹ میں کیس دائر کیا تھا، 2012 ميں سيشن عدالت، 2017 ميں پشاور ہائیکورٹ نے خاتون کے حق ميں فیصلہ دیا۔

خاتون کے بھائیوں نے 2018 ميں سپريم کورٹ ميں اپیل کی جو آج خارج ہو گئی۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *