فائل فوٹو

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کا اکانومی سے متعلق بیان بہت اچھا ہے، اسٹیبلشمنٹ کو فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے سیاست میں کتنا حصہ لینا ہے۔ 

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں سارے جنرل پراسیس سے گزر کر آتے ہیں، ہمیں نئے لگنے والوں پر اعتراض نہیں لگانے والوں پر اعتراض ہے۔

پاکستان میں احتساب کا عمل ختم ہوگیا ہے، سابق وفاقی وزیر

انہوں نے کہا کہ نظر آرہا ہے کہ اب پاکستان میں احتساب کا عمل ختم ہوگیا ہے، نیب قوانین کی ترمیم سے احتساب کا عمل ختم کیا گیا، حکومت نے نیب قانون کے پلی بارگین سے متعلق سیکشن 25 میں بھی ترمیم کی۔

فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کے خلاف مقدمات ختم ہونا احتساب کے عمل پر سوال ہے، آج عدالت میں پلی بارگین سے متعلق اہم باتیں ہوئیں، نیب قانون میں ترمیم کے بعد پلی بارگین والوں کو پیسے واپس کرنا ہوں گے، ججز نے آج بہت اچھے سوالات پوچھے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پلی بارگین سے سب سے زیادہ فائدہ آصف زرداری کو ہو گا، زرداری نے جو پیسہ پلی پارگین میں دیا اب واپس لینے کے چکر میں ہیں، اب ملزم ہی فیصلہ کر رہے ہیں کہ میرا مخالف وکیل کون ہو گا، نیب نے ملزمان سے زیادہ تر پیسہ پلی بارگین سے ریکور کیا، امید ہے کہ عدالت اس نتیجے پر پہنچے گی کہ جو اب قانون بنایا گیا ہے وہ غلط ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف، مریم نواز، آصف زرداری کے مقدمات کے فیصلے اشارہ ہیں کہ پاکستان میں احتساب کا نظام ختم ہو گیا ہے، آج سیکشن 25 پر بحث ہوئی، نیب نے اس قانون کے تحت بہت بڑی رقم ریکور کی، اس حکومت نے سیکشن 25 میں بھی ترمیم کر لی ہے۔

الیکشن کمیشن نے اسٹیٹ بینک کو عمران خان کے اکاؤنٹس کے بارے میں لکھا ہے، فواد چوہدری

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ آج الیکشن کمیشن نے اسٹیٹ بینک کو عمران خان کے اکاؤنٹس کے بارے میں لکھا ہے، الیکشن کمیشن نے قانون نہیں پڑھا، کیس کا فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد ایسا نہیں ہو سکتا، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے فنڈنگ کیس کدھر گئے۔

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ نواز شریف، زرداری اور گیلانی کے توشہ خانہ کیسز کدھر گئے، حکومت نے الیکشن کمیشن کو اپنا ماتحت ادارہ بنایا ہوا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کل مریم نواز نے پریس کانفرنس کی آج لندن پہنچ گئی، انہوں نے بونگی ماری کہ پاکستان میں سائفرز آنا بند ہوگئے، اگر سائفر کا نہیں پتہ تو کسی سے پوچھ لینا چاہیے تھا، سائفر ایک سسٹم ہے یہ خط یا ٹیلی گرام نہیں، اس طرح کے سائفر دیگر کے لیے معمول ہو گا تحریک انصاف کے لیے نہیں۔



Leave a Reply

Your email address will not be published.