فائل فوٹو

کراچی شہر کے 71 فیصد علاقوں کے پانی میں کلورین کم یا نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

 بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) کے مطابق یہ انکشاف جامعہ کراچی کی تحقیق میں ہوا۔

سربراہ آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کا کہنا ہے نیگلیریا سے متاثرہ ملکوں میں پاکستان دوسرے درجے پر ہے، جبکہ پاکستان میں کراچی سب سے زیادہ متاثر ہے۔

یہ بات بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے سربراہ اور کامسٹیک کے کوارڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹرمحمد اقبال چوہدری نے بین الاقوامی مرکز جامعہ کراچی میں غیر ملکی ماہرین سے گفتگو کے دوران کہی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ جمیل الرحمن سینٹرفار جینوم ریسرچ، جامعہ کراچی نے یونیورسٹی کے شعبے بائیو کیمسٹری کے تعاون سے انسانی دماغ کھانے والے خطرناک امیبا ”نیگلیریا فولیری“ کی جینو ٹائپنگ کی ہے

انہوں نے ماہرین کو بتایا کہ جمیل الرحمن سینٹر فار جینوم ریسرچ کے ڈاکٹر محمد اورنگزیب اور بائیو کیمسٹری شعبے کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر یاسمین راشد نے اس تحقیقی کام کو سرانجام دیا ہے۔

تحقیق کے لیے نمونے پرائمری ایمیبک میننگونسفلائٹس کے مرض سے متاثرہ28سالہ مریض کی ریڑھ کی ہڈی اور اُس کے گھر کے نل سے حاصل کیے گئے تھے۔

انہوں نے کہا نیگلیریا 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم پانی میں رہنا پسند کرتا ہے جبکہ کھارے یا کلورین ملے پانی میں مر جاتا ہے۔

انہوں نے کہا نیگلیریا کی جانچ کے لیے کراچی کے18مختلف ٹاون سے40 پانی کے نمونے لیے گئے، جس سے معلوم ہوا کہ تقریبا71.79فیصد علاقوں میں وہ پینے کا پانی فراہم کیا جارہا ہے جس میں یا تو کلورین بہت کم ہے یا موجودہی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا28.21فیصد پانی فراہم کرنے والی لائنوں میں کلورین کی باقیات ہے مگر عالمی ادارہ صحت کی سفارش کردہ مقدار سے کم ہے۔

انکا کہنا کہ منورہ، نارتھ کراچی، نیو کراچی، گلشنِ حدید، ملیر، قائدآباد، کورنگی، کیماڑی، سہراب گوٹھ، لیاری اور گولیمار سے لیے گئے پانی کے نمونوں میں نیگلیر پایا گیا ہے۔

ڈاکٹر محمد اقبال کا کہنا ہے متاثرین میں موت کی شرح 98 فیصد ہے، شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دنیا میں متاثرہ ملکوں میں پاکستان دوسرے درجے پر ہے جبکہ پاکستان میں کراچی سب سے زیادہ متاثرہ ہے جس کی اہم وجہ پانی سپلائی کا ناقص نظام ہے۔



Leave a Reply

Your email address will not be published.