فائل فوٹو

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ جب پی ٹی آئی حکومت میں تھی تو مہنگائی ہو رہی تھی، کوئی شک نہیں کہ مہنگائی کو کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ عمران خان نے جاتے جاتے قیمتیں کم کر کے آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی کی، اگر مشکل فیصلے نہ کرتے اور سیاست بچاتے تو پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ذاتی سیاست کا نہیں ملک اور قوم کا سوچا، ہم نے ریاست کے لیے مشکل فیصلے کیے، مشکل فیصلوں کی وجہ سے مہنگائی ہوئی، مقبولیت کا دعویٰ کرنے والے بتائیں انہوں نے ساڑھے چار سالوں میں کیا کیا؟

رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم نے سیلاب کے بعد دنیا کے ساتھ کامیاب ڈائیلاگ کیا ہے، سیلاب کی تباہی کے ہم قصوروار نہیں، عمران خان کی پالیسیاں ملک دشمن تھیں، ان کے بیانیے کی کوئی حیثیت نہیں، وہ کہتے ہیں 25 مئی کی تیاری نہیں تھی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر عمران کی 25 مئی کی تیاری نہیں تھی تو کس طرح 20 لاکھ لوگ لانے کا دعویٰ کیا تھا، پی ٹی آئی چیئرمین سمجھتے ہیں کہ اس کی حکومت ہے تو ٹھیک ورنہ ملک پر ایٹم بم گر جائے، ایک گروہ چڑھائی کرنے کا کہہ رہا ہے اس کا کیا جواب دیں، کیا ان کے سامنے لیٹ جائیں؟

ان کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی آئی مسلح جتھے لے کر آئی تو روکیں گے، مسلح جتھوں کو روکنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بروئے کار لانا پڑے گا، عمران خان مسلح جتھوں کو لے کر آیا تو اسی انداز میں نمٹا جائے گا، یہ جتھہ ریاست پر چڑھ دوڑنے کے لیے آیا تو اس کو روکیں گے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نےکہا کہ عمران خان کہہ چکے ہیں 25 مئی کو اس کے ساتھ مسلح جتھے تھے، مسلح جتھوں کو اسلام آباد پر حملہ آور ہونے نہیں دیں گے، پی ٹی آئی پرامن احتجاج کرے سہولت دیں گے، کھانے پینے کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔

وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ جتنی ضرورت ہے اس سے زیادہ نفری ہے، پنجاب اور خیبرپختونخوا سے بھی نفری مانگی ہے وہ جو بھی جواب دے وہ ریکارڈ پر رکھیں گے، اگر دباؤ میں آکر نام کا اعلان وقت سے پہلے ہوا تو ادارے کو تباہ کرنے والی بات ہے، نئے آرمی چیف کی تقرری کا اعلان اپنے وقت پر ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف پارٹی قائد ہیں ان پر پارٹی کوئی فیصلہ مسلط نہیں کر سکتی، نواز شریف کا ویژن آخری بات ہوگی، عام انتخابات سے پہلے نواز شریف وطن واپس آئیں گے، عام انتخابات 2023 میں اپنے وقت پر ہوں گے۔

رانا ثناء اللّٰہ کا مزید کہنا ہے کہ ماضی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں دوری رہی ہے آج پاکستان کی خاطر ایک ٹیبل پر بیٹھے ہیں، عمران خان کے خلاف کوئی نفرت نہیں پھیلا رہا، 25 مئی کو عمران خان کے خلاف ریاست سے جنگ کرنے کا مقدمہ درج ہونا چاہیے تھا، اگر کابینہ اجازت دیتی تو 25 مئی کو عمران خان کے خلاف ریاست سے جنگ کرنے کا مقدمہ درج کر لیتے۔

وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ عمران خان کے خلاف کچھ وجوہات کی بنیاد پر مقدمہ درج نہیں ہوسکا، ان کی چھوٹے موٹے مقدموں میں گرفتاری مناسب نہیں رہے گی، اس مرتبہ حکومت کو کہوں گا کہ عمران خان کو ایسے جانے نہ دیا جائے، جو حملہ آور ہوتا ہے وہ ہی ذمے دار ہوتا ہے، دفاع کرنے والا ذمے دار نہیں ہوتا۔

ن لیگی رہنما کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمیں بھی اپنی مدت پوری کرنے نہیں دی گئی، آئندہ ہفتے اسحاق ڈار پاکستان آجائیں گے، ضلعی سطح پر تنظیمی دورے کیے جائیں گے، مریم نواز اور حمزہ شہباز تنظیمی معاملات دیکھ رہے ہیں۔



Leave a Reply

Your email address will not be published.