وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ—فائل فوٹو

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ متاثرینِ سیلاب کی گالیاں سن کر نہیں، الیکشن کی خبر پر غصہ آتا ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ صوبے میں سیلاب کی صورتِ حال میں الیکشن کی خبر سننے کا بھی وقت نہیں، سیلاب کی صورتِ حال میں ٹی وی پر الیکشن کی خبر آئے تو میں چینل بدل دیتا ہوں۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ میں 30 میں سے 24 اضلاع سیلاب سے متاثر ہوئے، کراچی میں اوسط بارش سے زیادہ بارشیں ہوئیں، بارشوں سے کراچی کے انفرااسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا۔

ان کا کہنا ہے کہ پڈ عیدن میں 1800 ملی میٹر بارش ہوئی، ان اضلاع میں 30 لاکھ سے زیادہ کچے مکانات ہیں، ہم نے 30 لاکھ گھرانوں کے لیے چھت کا بندوبست کرنا ہے، ہمیں فوری طور پر ڈیڑھ ملین خیموں کی ضرورت ہے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سیلاب کے باعث پانی کا بہاؤ اتنا تیز تھا کہ کوئی شخص کچھ نہیں بچا سکتا تھا، لوگ کوشش کرتے ہیں کہ پانی ان کی طرف نہ آئے، مگر پانی کسی امیر غریب کو نہیں دیکھتا۔

انہوں نے کہا کہ وبائی امراض سیلاب سے بڑا ایشو ہیں، 504 کیمپس پورے سندھ میں لگائے ہوئے ہیں جن میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کام کر رہا ہے، متاثرین کو دوائیں فراہم کرنے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمیں مچھر دانیوں کی کثیر تعداد میں ضرورت ہے، غیر ملکی سفیروں سے بھی کہا ہے کہ ہمیں فنڈ کی نہیں، خیموں اور مچھر دانیوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایم کیوایم کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں، ان کی شکایات بھی ہیں، ایم کیو ایم کے ایک وفد کے ساتھ آج ملاقات ہو گی۔

مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی ذمے داری حکومت کی ہوتی ہے، کراچی میں 1100 ملی میٹر بارش ہوئی ہے جس کی وجہ سے انفرااسٹرکچر کو شد ید نقصان پہنچا۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ کراچی کے انفرااسٹرکچر کی بحالی کے لیے فوری طور پر فنڈز جاری کر دیے تھے، کراچی میں سڑکوں کی مرمت کا کام جاری ہے، کراچی میں انفرااسٹرکچر کی بحالی کے لیے بہت زیادہ فنڈز چاہئیں۔



Leave a Reply

Your email address will not be published.