صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ سیاسی بحران کامیابی سے حل کرلیں تو سیلاب اور معاشی بحران حل کرنا کوئی مسئلہ نہیں۔

نجی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر عارف علوی نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام عارضی حل ہے۔

ایک سوال کے جواب میں صدر مملکت نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے رابطہ رہتا ہے، وزیراعظم سے تفصیل سے مثبت بات ہوئی تھی۔

صدر مملکت سے سوال کیا گیا کہ الیکشن سے پہلے ریلیف کےکام اور معیشت کی بہتری کیلئے کچھ ماہ ملنے چاہئیں؟

جواب میں صدر نے کہا کہ اس پر ڈسکشن ہوسکتا ہے اور سیاستدانوں کے درمیان ہونا چاہیے۔ قوم کو کلیئر لیڈر شپ چاہیے۔

صدر عارف علوی نے کہا کہ بجلی کے بل اور ڈالر سے متعلق یہ حکومت محنت کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکنوکریٹس کی حکومت بنتی ہے تو اس کا عوام سے رابطہ نہیں ہوتا، ہمیں اچھے ٹیکنوکریٹ اور اچھی ٹیکنیکل مدد کی ضرورت ہے۔

عارف علوی نے کہا کہ میں اور عمران خان ٹیلیفون پر یا میسج پر رابطے میں رہتے ہیں، عمران خان سے ملاقاتیں پہلے بھی زیادہ نہیں تھیں۔

انہوں نے کہا کہ قانون سازی کے اعتبار سے اس حکومت کے ساتھ 90 سے زائد ایڈوائس کیس منظور کیے۔

صدر عارف علوی نے کہا کہ الیکٹرانک بل، ووٹنگ مشین، اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ بل پر اعتراض کرتے ہوئےدستخط سے انکار کیا، اس زمانے میں بھی ایسےقانون آئے جو ایف اے ٹی ایف کو خطرے میں ڈال سکتے تھے، وزیر قانون نے وعدہ کیا اگلی ترمیم میں درست کرلیں گے تو اس پر میں نے دستخط کردیا۔



Leave a Reply

Your email address will not be published.