قومی اسمبلی میں نیب ترمیمی بل پیش


قومی اسمبلی میں نیب ترمیمی بل پیش

قومی اسمبلی میں نیب ترمیمی بل پیش کردیا گیا۔ نیب آرڈیننس کا اطلاق ایمنسٹی اسکیم کے تحت لین دین پر نہیں ہوگا۔

قومی اسمبلی میں بل وزیر مملکت قانون و انصاف شہادت اعوان نے پیش کیا۔مجوزہ بل کے تحت آرڈیننس کا اطلاق ریاستی اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز پر نہیں ہوگا، 50 کروڑ روپے سے کم کا کیس نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آئے گا۔

مجوزہ بل کے مطابق صدر وفاقی حکومت کی سفارش پر پراسیکیوٹر جنرل مقرر کرے گا، نیب جرائم کے ٹرائل کیلیے وفاقی حکومت جتنی مرضی عدالتیں قائم کرسکتی ہے۔ وفاقی حکومت، ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی مشاورت سے نیب عدالت کے جج کا 3 سال کے لیے تعین کرے گی۔

نیب عدالت کا جج ایسا شخص تعینات نہیں ہوسکتا جو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج یا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نہ ہو، نیب جج کو مدت مکمل ہونے سے قبل نہ ہٹایا جاسکتا ہے نہ تبادلہ کیا جاسکتا ہے، نیب جج کو صرف متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی مشاورت کے ساتھ ہٹایا جاسکتا ہے۔

قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے اس بل کے مطابق ملزم کا ٹرائل صرف اس کورٹ میں ہو گا جس کی حدود میں جرم کا ارتکاب کیا گیا ہو، نیب تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ریفرنس دائر کرے گا، یہ حتمی ریفرنس ہوگا، کوئی اضافی ریفرنس دائر نہیں کیا جائے گا، اضافی ریفرنس عدالت کی اجازت سے دائر ہو گا اگر تحقیقات میں نئے حقائق سامنے آئیں۔

بل کے متن کے مطابق پلی بارگین والے ایک ملزم کا اثر اس جیسے مقدمے میں دوسرے ملزم پر نہیں پڑے گا، پلی بارگین کے تحت رقم واپسی میں ناکامی پر پلی بارگین کا معاہدہ ختم ہو جائے گا، ملزم چیلنج کرے کہ پلی بارگین جبراً کروایا گیا تو عدالت معاہدے کو ختم کرسکتی ہے۔

ریفرنس دائر کرنے سے قبل چیئرمین نیب پراسیکیوٹر جنرل کی مشاورت سے کوئی بھی بلا جواز کارروائی منسوخ کر دے گا، چیئرمین نیب کو لگے ریفرنس بلا جواز ہے تو وہ متعلقہ عدالت سے اسے منسوخ یا واپس لینے کا کہہ سکتا ہے جبکہ چارج فریم کرنے سے قبل ایسا ہونے کی صورت میں ملزم کو جرم سے ڈسچارج کردیا جائے گا۔

مجوزہ بل کے تحت چارج فریم ہونے کے بعد ایسا ہونے پر ملزم کو جرم سے بری کردیا جائے گا۔