پروگرام بنایا کہ ہمیں اتنا دبایا جائے کہ اٹھ نہ سکیں، عمران خان


پروگرام بنایا کہ ہمیں اتنا دبایا جائے کہ اٹھ نہ سکیں، عمران خان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ صرف ہماری حکومت ہی نہیں ہٹائی گئی پورا پروگرام بنایا گیا کہ ہمیں اتنا دبایا جائے کہ اٹھ نہ سکیں۔

کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ لانگ مارچ میں خواتین اور بچوں پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی، لوگ بجائے خوفزدہ ہونے کے ایک قوم بننا شروع ہوئے، جس طرح ضمنی الیکشن میں لوگ نکلے 2018 الیکشن میں بھی ایسا نہیں دیکھا۔

 پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ہمیں ہرانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا، حمزہ شہباز کو غیر قانونی وزیر اعلیٰ بنا کر بٹھایا گیا، حمزہ شہباز نے عدالتی احکامات کے باوجود ہر چیز استعمال کی، ان تمام چیزوں کے باوجود جس طرح الیکشن لڑا سب کو سلام پیش کرتا ہوں۔

عمران خان نے کہا کہ ملک ترقی کررہا تھا معاشی انڈیکیٹرز ٹھیک جا رہے تھے، اکنامک سروے کے مطابق معاشی گروتھ 6 فیصد پر تھی، ہم ٹیکنالوجی زونز کو ترقی دے رہے تھے اور دیگر پروجیکٹس تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم پہلی دفعہ ملک کو فلاحی ریاست کی طرف لے کر جا رہے تھے، پہلی دفعہ غریب لوگوں کو 10 لاکھ روپے تک کی ہیلتھ انشورنس دی گئی، احساس پروگرام کے ذریعے کوشش کی کہ لوگوں کو غربت سے نکالا جائے، احساس پروگرام کی دنیا نے تعریف کی، کامیاب پاکستان پروگرام میں 20 لاکھ خاندانوں کو بلا سود قرض دینا شروع کیا۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے مزید کہا کہ ہمارے دور میں کورونا وبا آئی، ایسی بیماری صدی میں ایک بار آتی ہے، پاکستان جیسے کورونا وباء سے نکلا عالمی تنظیموں نے تعریف کی، ہم نے کورونا میں لوگوں کی زندگی اور معیشت کو بھی بچایا، ہمارے ساڑھے تین سال میں ڈالر کی قیمت میں 50 روپے اضافہ ہوا تھا، ان کے ساڑھے تین ماہ میں ڈالر کی قیمت میں 53 روپے اضافہ ہوا۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ سوال ہے جب ملک ٹھیک چل رہا تھا سازش کی اجازت کیوں دی گئی؟ جو طاقتیں سازش روک سکتی تھیں، اس وقت ان کو آگاہ کیا تھا، آگاہ کردیا تھا کہ جو معاشی بحران آئے گا یہ حکومت نہیں سنبھال سکے گی، انھوں نے تو ملک ٹھیک نہیں کرنا تھا ان کی وجہ سے تو ملک مشکل میں تھا، تب الیکشن کروا دیے جاتے تو آج پاکستان کو اس بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

انہوں نے کہا کہ ریمنڈ ڈیوس نے 2 افراد کو گولی ماری، اس کو امریکا کو واپس کیا گیا، کیا کوئی پاکستانی امریکا میں ایسا کرے تو وہ معاف کریں گے، ایمل کانسی کو ہماری عدالتوں کے بغیر یہاں آکر اغواء کیا گیا، یہ امریکا کا قصور نہیں ہمارا قصور ہے کیوں کہ ہم خوفزدہ ہیں۔